google-site-verification: google7ce0aa59e7493ed6.html زراعت کا پس منظر - Agriculture of Pakitan
0

زراعت کا پس منظر

پاکستان ایک زرعی ملک ہے ملکی آمدن کا تقریبا 22 فیصد زراعت سے حاصل ہوتا ہے اس کی 67.5 فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے جو کہ بلواسطہ یا بلاواسطہ زراعت پر انحصار کرتی ہیں کل ملازمتوں کا بتالیس فیصد زراعت سے وابستہ ہیں زرعی پیداوار میں اضافہ کاشتکار حضرات کی آمدن میں اضافے کا سبب ہے اور آمدنی میں اضافے سے ان کی بچت کا معیار بھی بلند ہوگا دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کاشتکاروں کی بچت کا معیار انتہائی کم ہے اس لیے جب تک آمدنی میں اضافہ نہ ہو بچت میں اضافہ مشکل ہےضروری ہے کے زراعت میں کاشتکاری کہ جدید طریقے اپنا کر ایکڑ پیداوار بڑھائی جائے اس کے نتیجے میں کاشتکاروں کی کی آمدنی بڑھے گی ملک خوراک کے معاملے میں خود کفیل ہو گا لوگ خوشحال ہوں گے اور ان کا معیار زندگی بلند ہوگا

زراعت پاکستان کی معیشت کا روایتی طور پر بہت بڑا شعبہ ہے کل آمدنی کا بہت بڑا حصہ زراعت سے حاصل ہوتا ہے وہ صرف خوراک کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ اور کارخانوں کے لیے بھی ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے پاکستان کے قیام کے بعد ملک میں ٹیکسٹائل ملز فلور ملز کاغذ سازی کیمیائی کھاد فیڈملز مشروبات جوٹ ملز چپ بورڈ اور جدید ملک پلانٹس وغیرہ کی صنعتوں میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے یہ سب ترقی بلا شبہ زراعت کی مرہون منت ہے تمام صنعتوں اور کارخانوں کو زراعت کا شعبہ ہیں خام مال فراہم کرتا ہے اس کے علاوہ زراعت کا شعبہ نہ صرف کل قومی آبادی خواہ دیہی ہو یا شہری کی خوراک کی ضروریات کو مستعدی کے ساتھ پورا کر رہا ہے بلکہ زرمبادلہ کماتے ہوئے دیگر صنعتوں اور ٹیکنالوجی میں وسعت اور ترقی کا ضامن بھی ثابت ہوا ہے بعض اوقات موسم میں خرابی اور قدرتی آفات سے فصلوں کی پیداوار میں کمی ہو جاتی ہے اس کے باوجود یا اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے پاکستان زرعی لحاظ سے خود کفالت کی حدود میں داخل ہوگیا ہے یہ سارا غریب اور محنتی کاشتکاروں کی انتھک محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے اگرچہ حکومت اور کسانوں کی کوششوں سے ملک کی مجموعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے تاہم ابھی بھی پاکستان کی فی ایکڑ پیداوار دوسرے ملکوں کی نسبت کافی کم ہے جس کی وجوہات درج ذیل ہیں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *