google-site-verification: google7ce0aa59e7493ed6.html فی ایکڑ زرعی پیداوار میں کمی کی وجوہات - Agriculture of Pakitan
0

فی ایکڑ زرعی پیداوار میں کمی کی وجوہات

 

فی ایکڑ پیداوار کم ہونے کی کئی ایک وجوہات ہیں لیکن ان میں زیادہ اہم درج ذیل ہیں

 پاکستان میں چھوٹے کاشتکار زیادہ ہیں جس کی وجہ سے چھوٹے کاشتکار کے لئے کھیت کا انتظام مناسب طریقہ پر کرنا اور ضرورت کے مطابق سرمایہ لگانا تقریبا ناممکن ہے ناقص طریقے پر دیکھ بھال اور نامناسب سرمایہ کاری چھوٹے کاشتکاروں کی ترقی کی راہ میں حائل ہے اس لیے ضروری ہے کاشتکاروں کو بروقت قرض مہیا کیا جائے اس کے علاوہ چھوٹے کاشتکاروں کو خصوصی طور پر فصلوں کے لیے ادویات اور دوسری ضروری سہولیات مہیا کرنی چاہیے تاکہ یہ طبقہ بھی اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے کے قابل ہو سکے

۔ پاکستان میں کاشتکاروں کی اکثریت آج بھی کاشتکاری کے جدید طریقوں سے ناآشنا ہے اور ابھی تک کھیتی باڑی کے پرانے آلات استعمال کرنے پر مجبور ہیں ترقی یافتہ ممالک میں اوسطا ایک کاشتکار کے پاس 50 تا 80 ہارس پاور کی مشینری زیر استعمال ہے جبکہ پاکستان میں نصف تا ایک ہارس پاور بیلوں کی شکل میں استعمال ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان ابھی تک ترقی یافتہ ممالک کی طرح پیداوار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا

۔ پاکستان میں لاکھوں ایکڑ زمین سیم و تھور کی زد میں ہے اور اس بیماری سے بچاؤ اور علاج غریب کاشتکاروں کے بس میں نہیں ہے اسی بیماری کی وجہ سے بھی قومی پیداوار بہت کم ہے 

۔پاکستان کا کاشتکار فارم کے انتظام و انصرام کے اصولوں سے ناواقف ہیں جس کی وجہ سے وہ وسائل سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے منصوبہ بندی کے میدان میں صحیح اعداد و شمار کی عدم موجودگی سے حکمت عملی و منصوبہ بندی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی 

۔پاکستان میں زرعت کو صنعتی اور تجارتی طرز پر چلانے کی بجائے پرانے فرسودہ طریقوں سے چلایا جاتا ہے نئ فصلوں کی کاشت پر دھیان نہ دینا اور زراعت کوتجارتی سطح پر نہ رکھنا ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے

پاکستان میں توسیعی نظام اس قدرموثر نہیں ہے جتنا کے مغربی ممالک میں ہے زرعی توسیع کارکن تحقیقاتی اداروں اور کاشتکاروں کہ درمیان میں پل کا کردار ادا کرتا ہے زرعی تحقیق کے نتائج کو بلا تاخیر کاشتکار تک پہنپانا نہایت ضروری ہے تاکہ کاشتکارتحقیق کہ جدید نظام سے واقف ہواورفائدہ اٹھاسکے مگر بدقسمتی سے زرعی توسیع تحقیق کا نظام پاکستان میں نا ہونےکے برابر ہے اسلۓ اس نظام کو بھی ملکی سطح پر حکمت عملی بنا کر کام کرنے کی ضرورت ہے

ان تمام نکات پر غور کرکے اور حکمت عملی بناکر نظام میں تبدیلی لاناہوگی تاکہ ملک دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح ترقی کر سکے اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *